حرام کو چھوڑنے کا بدلہ
دمشق میں ایک بہت بڑی مسجد ہے کہ جو جامع مسجد توبہ کے نام سے مشہور ہے۔اس میں ایک طالب علم کہ جو بہت زیادہ غریب، اور عزت نفس میں مشہور تها وہ اسی مسجد کے ایک کمرے میں ساکن تها۔دو روز گزر چکے تھے کہ اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اور اس کے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تهی اور نہ کوئی پیسہ اس کے پاس تھا۔ تیسرے روز بهوک کی شدت سے اس نے احساس کیا کہ وہ مرنے کے قریب ہے!
سوچنے لگا کہ اب میں اس حالت میں ہوں کہ شرعاً حتیٰ کہ مردار کھانا یا ضرورت کے مطابق چوری جائز ہے۔
اسی بنا پر چوری کا راستہ بہترین راه تھی۔
شیخ طنطاوی کہتے ہیں:
یہ سچا واقعہ ہے اور میں ان لوگوں کو اچهی طرح جانتا ہوں اور اس واقعہ کی تفصیل سے اگاہ ہوں۔یہ مسجد ایک قدیمی محلہ میں واقع ہے اور وہاں تمام مکانات قدیمی طرز پر اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کی چھتیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور چهتوں سے ہی سارے محلہ میں جایا جاسکتا ہے-یہ جوان مسجد کی چھت پرگیا اور وہاں سے محلہ کے گھروں کی طرف چل دیا۔ پہلے گھر میں پہنچا تو دیکھا، وہاں کچھ خواتین ہیں تو سر جھکا کے وہاں سے چلا گیا-
بعد والے گهر پہنچا تو دیکها گهر خالی ہے لیکن اس گهر سے کھانے کی خوشبو آرہی ہے-بهوک کی شدت میں جب کھانے کی خوشبو اس کے دماغ میں پہنچی تو بھوکے کی مانند اس کو اپنی طرف کھینچ لیا. یہ مکان ایک منزل تها-فوراً باورچی خانے میں پہنچا - دیگچی کا ڈهکن اٹھایا تو اس میں بهرے ہوئے بینگن کا سالن تها-ایک بینگن اٹهایا بهوک کی شدت سے سالن کے گرم ہونے کی بهی پرواہ نہیں کی-بینگن کو دانتوں سے کاٹا اور جیسے ہی نِگلنا چاہا تو اسی وقت عقل اپنی جگہ واپس آگئی اور اس کا ایمان جاگ گیا-اپنے آپ سے کہنے لگا:
خدا کی پناہ!میں طالب علم ہوں،لوگوں کے گهر میں گهسوں اور چوری کروں؟؟
اپنے اس فعل پر شرم آ گئ ,پشیمان ہوا اور استغفار کیا اور پهر بینگن کو واپس دیگچی میں رکھ دیا۔اور جیسے آیا تها ویسے ہی واپس لوٹ گیا- اور مسجد میں داخل ہوکر شیخ کے حلقہ درس میں حاضر ہوا-بهوک کی شدت سے سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ شیخ کیا درس دے رہے ہیں۔
جب شیخ درس سے فارغ ہوئے اور لوگ بهی متفرق ہوگئے، توایک خاتون مکمل حجاب میں وہاں آئی۔شیخ سے کچھ گفتگو کی اور وہ طالب علم ان دونوں کی گفتگو نہیں سمجھ سکا۔شیخ نے اپنے اطراف میں نگاہ کی تو اس طالب علم کے علاوہ کسی کو وہاں نہ پایا۔ پهراس کو آواز دی اور کہا: تم شادی شدہ ہو ؟
جوان نے کہا: نہیں!
شیخ نے کہا: تم شادی نہیں کرنا چاہتے؟
جوان خاموش رہ گیا۔
شیخ نے پھر کہا: مجھے بتاؤ تم شادی کرنا چاہتے ہو یا نہیں؟
اس جوان نے جواب دیا: خدا کی قسم میرے پاس ایک لقمہ روٹی کے لئے پیسے نہیں ہیں،میں کس طرح شادی کروں؟
شیح نے کہا: یہ خاتون آئی ہے اس نے مجھے بتایا ہے کہ اس کا شوہر وفات پاگیا ہے اور اس شہر میں بچے اور اس کا دنیا میں سوائے ایک ضعیف چچا کے کوئی عزیز و رشتہ دار نہیں ہے۔اپنے چچا کو یہ اپنے ساتھ لے کر آئی ہے اور وہ اس وقت اس مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہےاور اس خاتون کو اس کے شوہر سے گهر اور مال ورثہ میں ملا ہے۔اب یہ آئی ہے اور ایسے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے جو شرعاً اس کا شوہر اور اس کا سرپرست ہو- تاکہ تنہائی اور بدطینت انسانوں سے محفوظ رہے۔(اب بتاؤ) کیا تم اس سے شادی کرو گے ؟
جوان نے کہا: ہاں
اور پھر اس خاتون سے پوچھا: کہ تم اس کو اپنے شوہر کے طور پر قبول کرتی ہو؟
اس نے بھی مثبت جواب دیا۔
شیخ نے اس خاتون کے چچا اور دو گواہوں کو بلا کر ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا اور اس طالب علم کے بجائے خود اس خاتون کا مہر ادا کیا- اور پهر اس خاتون سے کہا: اپنے شوہر کا ہاتھ تھام لو۔اس نے ہاتھ تهام لیا اور اپنے گهر کی طرف اپنے شوہر کی رہنمائی کی۔
جب گهر میں داخل ہوئی تو اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔وہ جوان اپنی زوجہ کے حسن و جمال سے حیران رہ گیا۔اور جب اس گهر کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہی گھر ہے جس میں وہ داخل ہوا تها۔ زوجہ نے شوہر سے پوچها کہ تمہیں کچھ کهانے کے لئے لے آوں ؟
کہا: ہاں
اس نے دیگچی کا ڈهکن اٹهایا اور بینگن کو دیکها اور بولی: عجیب ہے، گھر میں کون آیا تھا اور اس نے بینگن کو دانتوں سے کاٹا ہے؟ وہ جوان رونے لگا اور اپنا قصہ اس کو سنا دیا۔
زوجہ نے کہا: یہ تمہاری امانت داری اور تقویٰ کا نتیجہ ہے تم نے حرام بینگن کهانے سے اجتناب کیا تو الله نے سارا گھر اور گھر کی مالکہ کو حلال طریقے سے تمہیں دے دیا۔
بہت خوبصورت اور قابل غور۔
سبحان الله!
جو کوئی الله کی خاطر کسی گناہ کو ترک کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو
الله اس کے مقابل میں بہتر چیز اس کو عطا کرتا ہے۔
(منقول)
0 Comments