سبق آموز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 7 ستمبر، 2023

سعادت حسن منٹو

 لوگوں کو انتا مذہبی بنا دو کہ وہ محرومیوں کو قسمت سمجھیں، ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کر لیں۔  حق کے لیے آواز اٹھانا گناہ سمجھیں،غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا وقت معین سمجھ کر چپ رہیں۔

سعادت حسن منٹو



امام کی تلاش

پچھلے دنوں ایک مسجد میں نئے امام کی تلاش جاری تھی۔ چند کمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلےگئے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد مفتی صاحب نے آنے والوں سے آنے کا مدعا پوچھا :کیسے آنا ہوا؟

مسجدکمیٹی: بس آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے،آپ جیسے بزرگوں کی صحبت نصیب ہونا بھی سعادت کی بات ہے۔

مفتی صاحب:ماشاء اللہ! اللہ خوش رکھے۔ پھر بھی اگر کوئی کام ہے تو بتا دیں کیونکہ مجھے کسی کام سے باہر جانا ہے۔

مسجدکمیٹی:جی بس آپ سے ملنا بھی تھا اور ایک عرصے سے ہمارا آپ کے ہاں آنا جانا ہے تو ہم نےچاہا کہ ہم اپنی مسجد کےلیے امام صاحب بھی آپ ہی کے پاس سے لے جائیں۔

مفتی صاحب: پہلے امام صاحب کہاں ہیں؟

مسجدکمیٹی:انہیں فارغ کر دیا ہے۔

مفتی صاحب:کیوں؟

مسجدکمیٹی: ٹائم نہیں دیتے تھے۔

مفتی صاحب: کیا مطلب؟

مسجدکمیٹی: جی وہ نماز کے لیے ٹائم پر نہیں آتے تھے اور چھٹیاں بھی بہت کرتے تھے؟

مفتی صاحب:ٹائم پر کیوں نہیں آتے تھے؟

مسجدکمیٹی: جی وہ اِدھر اُدھر ٹیوشن پڑھانے نکل جاتے تھے پھر نماز پہ کبھی ایک منٹ رہتا تو پہنچتے اور کبھی بالکل عین جماعت کےٹائم پر پہنچتے تھے اور کبھی پہنچتے ہی نہیں تھےروز کسی نہ کسی نماز کی چھٹی کر لیتے تھے۔

مفتی صاحب:وظیفہ کیا دیتے ہیں؟

مسجدکمیٹی:جی ان کو آٹھ ہزار (8000)دیتے تھے اور اب آپ کے امام صاحب کو دس ہزار دیں گے۔

مفتی صاحب:امام صاحب فیملی کے ساتھ رہتے تھے؟

مسجدکمیٹی:نہیں اکیلے تھے ،ہمارے پاس فیملی رہائش کی سہولت نہیں ہے، اب کوشش کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب:آپ جانتے ہیں کہ اس منصب کی ابتدا سید المرسلینﷺ نے کی اور خلفائے راشدین نے اسے پروان چڑھایا۔خلفائے راشدین بَیَکْ وقت حاکم بھی تھے اور امام بھی۔ ان کے بعد منصبِ امامت والے انہی کے نائبین کہلاتے ہیں۔اسی لیے مصلائے امامت کو مصلائے رسول اور منبرِ مسجد کو منبرِ رسول بھی کہتےہیں۔اب خود ہی سوچیں کہ یہ کتنا مقدس منصب ہے اور اس کی کتنی قدر ہونی چاہیے۔ آج کل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام صاحب چوبیس گھنٹے مسجد میں موجود رہیں اور ہم جو بھی کہیں امام صاحب وہی کریں لیکن دوسری طرف لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں اتنا بھی وظیفہ نہیں دیتے جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔آج اس دور میں سرکاری طور پر ایک مزدور کا وظیفہ بھی چودہ ہزار (14000)مقرر ہے لیکن لوگوں کی کم ظرفی تو دیکھیں کہ جس منصب کا رتبہ ملک کے صدر و وزیر اعظم سے بھی اعلیٰ ہے اسے ایک مزدور کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے،ارے میرے نزدیک تو امام و قرآن کی قدر یہ ہے کہ امام صاحب جوصرف نمازِ فجر میں ہمیں قرآن سناتے ہیں اگر صرف ایک نماز پر انہیں ہم ایک لاکھ روپے وظیفہ دیں تو یہ بھی کم ہے۔اور یہاں اس مقام کی قدر یہ هے کہ لوگ سات آٹھ ہزار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر بڑا احسان کرتے ہیں اوراگر ان کا اپنا بیٹا 30 ،40 ہزار بھی کماتا ہو پھر بھی انہیں کم نظر آتا هے اور انہی امام صاحب سے دعا کرائیں گے کہ بچے کی کوئی اچھی جاب لگ جائے، حیرت و افسوس کا مقام ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ امام صاحب اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ ٹیوشن پڑھائیں نہ کچھ اور کام کریں صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں۔کیا وہ انسان نہیں ہیں؟کیا ان کے بیوی بچوں کی ضروریات نہیں ہیں؟کیا وہ اپنے بیوی بچوں کو خوشیاں دینے کے مستحق نہیں ہیں؟آج لوگوں کو امام نہیں ایک نوکر اور غلام کی تلاش ہے، مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں اور دوبارہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔

یہ کہہ کر مفتی صاحب چل دیۓ اور کمیٹی ممبران دیکھتے رہ گئے۔


اتوار، 26 فروری، 2023

حرام کو چھوڑنے کا بدلہ

دمشق میں ایک بہت بڑی مسجد ہے کہ جو جامع مسجد توبہ کے نام سے مشہور ہے۔اس میں ایک طالب علم کہ جو بہت زیادہ غریب، اور عزت نفس میں مشہور تها وہ اسی مسجد کے ایک کمرے میں ساکن تها۔دو روز گزر چکے تھے کہ اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اور اس کے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں تهی اور نہ کوئی پیسہ اس کے پاس تھا۔ تیسرے روز بهوک کی شدت سے اس نے احساس کیا کہ وہ مرنے کے قریب ہے!
سوچنے لگا کہ اب میں اس حالت میں ہوں کہ شرعاً حتیٰ کہ مردار کھانا یا ضرورت کے مطابق چوری جائز ہے۔
اسی بنا پر چوری کا راستہ بہترین راه تھی۔
شیخ طنطاوی کہتے ہیں:
یہ سچا واقعہ ہے اور میں ان لوگوں کو اچهی طرح جانتا ہوں اور اس واقعہ کی تفصیل سے اگاہ ہوں۔یہ مسجد ایک قدیمی محلہ میں واقع ہے اور وہاں تمام مکانات قدیمی طرز پر اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے کی چھتیں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور چهتوں سے ہی سارے محلہ میں جایا جاسکتا ہے-یہ جوان مسجد کی چھت پرگیا اور وہاں سے محلہ کے گھروں کی طرف چل دیا۔ پہلے گھر میں پہنچا تو دیکھا، وہاں کچھ خواتین ہیں تو سر جھکا کے وہاں سے چلا گیا-
بعد والے گهر پہنچا تو دیکها گهر خالی ہے لیکن اس گهر سے کھانے کی خوشبو آرہی ہے-بهوک کی شدت میں جب کھانے کی خوشبو اس کے دماغ میں پہنچی تو بھوکے کی مانند اس کو اپنی طرف کھینچ لیا. یہ مکان ایک منزل تها-فوراً باورچی خانے میں پہنچا - دیگچی کا ڈهکن اٹھایا تو اس میں بهرے ہوئے بینگن کا سالن تها-ایک بینگن اٹهایا بهوک کی شدت سے سالن کے گرم ہونے کی بهی پرواہ نہیں کی-بینگن کو دانتوں سے کاٹا اور جیسے ہی نِگلنا چاہا تو اسی وقت عقل اپنی جگہ واپس آگئی اور اس کا ایمان جاگ گیا-اپنے آپ سے کہنے لگا:
خدا کی پناہ!میں طالب علم ہوں،لوگوں کے گهر میں گهسوں اور چوری کروں؟؟
اپنے اس فعل پر شرم آ گئ ,پشیمان ہوا اور استغفار کیا اور پهر بینگن کو واپس دیگچی میں رکھ دیا۔اور جیسے آیا تها ویسے ہی واپس لوٹ گیا- اور مسجد میں داخل ہوکر شیخ کے حلقہ درس میں حاضر ہوا-بهوک کی شدت سے سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ شیخ کیا درس دے رہے ہیں۔
جب شیخ درس سے فارغ ہوئے اور لوگ بهی متفرق ہوگئے، توایک خاتون مکمل حجاب میں وہاں آئی۔شیخ سے کچھ گفتگو کی اور وہ طالب علم ان دونوں کی گفتگو نہیں سمجھ سکا۔شیخ نے اپنے اطراف میں نگاہ کی تو اس طالب علم کے علاوہ کسی کو وہاں نہ پایا۔ پهراس کو آواز دی اور کہا: تم شادی شدہ ہو ؟
جوان نے کہا: نہیں!
شیخ نے کہا: تم شادی نہیں کرنا چاہتے؟
جوان خاموش رہ گیا۔
شیخ نے پھر کہا: مجھے بتاؤ تم شادی کرنا چاہتے ہو یا نہیں؟
اس جوان نے جواب دیا: خدا کی قسم میرے پاس ایک لقمہ روٹی کے لئے پیسے نہیں ہیں،میں کس طرح شادی کروں؟
شیح نے کہا: یہ خاتون آئی ہے اس نے مجھے بتایا ہے کہ اس کا شوہر وفات پاگیا ہے اور اس شہر میں بچے اور اس کا دنیا میں سوائے ایک ضعیف چچا کے کوئی عزیز و رشتہ دار نہیں ہے۔اپنے چچا کو یہ اپنے ساتھ لے کر آئی ہے اور وہ اس وقت اس مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہےاور اس خاتون کو اس کے شوہر سے گهر اور مال ورثہ میں ملا ہے۔اب یہ آئی ہے اور ایسے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے جو شرعاً اس کا شوہر اور اس کا سرپرست ہو- تاکہ تنہائی اور بدطینت انسانوں سے محفوظ رہے۔(اب بتاؤ) کیا تم اس سے شادی کرو گے ؟
جوان نے کہا: ہاں
اور پھر اس خاتون سے پوچھا: کہ تم اس کو اپنے شوہر کے طور پر قبول کرتی ہو؟
اس نے بھی مثبت جواب دیا۔
شیخ نے اس خاتون کے چچا اور دو گواہوں کو بلا کر ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا اور اس طالب علم کے بجائے خود اس خاتون کا مہر ادا کیا- اور پهر اس خاتون سے کہا: اپنے شوہر کا ہاتھ تھام لو۔اس نے ہاتھ تهام لیا اور اپنے گهر کی طرف اپنے شوہر کی رہنمائی کی۔
جب گهر میں داخل ہوئی تو اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔وہ جوان اپنی زوجہ کے حسن و جمال سے حیران رہ گیا۔اور جب اس گهر کی طرف متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہی گھر ہے جس میں وہ داخل ہوا تها۔ زوجہ نے شوہر سے پوچها کہ تمہیں کچھ کهانے کے لئے لے آوں ؟
کہا: ہاں
اس نے دیگچی کا ڈهکن اٹهایا اور بینگن کو دیکها اور بولی: عجیب ہے، گھر میں کون آیا تھا اور اس نے بینگن کو دانتوں سے کاٹا ہے؟ وہ جوان رونے لگا اور اپنا قصہ اس کو سنا دیا۔
زوجہ نے کہا: یہ تمہاری امانت داری اور تقویٰ کا نتیجہ ہے تم نے حرام بینگن کهانے سے اجتناب کیا تو الله نے سارا گھر اور گھر کی مالکہ کو حلال طریقے سے تمہیں دے دیا۔
بہت خوبصورت اور قابل غور۔
سبحان الله!


جو کوئی الله کی خاطر کسی گناہ کو ترک کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو
الله اس کے مقابل میں بہتر چیز اس کو عطا کرتا ہے۔


(منقول)

سورۃ القارعۃ کا مفہوم - ایک سبق آموز واقعہ

ایک آدمی سورت القارعة تلاوت کر رہا تھا جسکا ترجمہ تھا "کھڑ کھڑانے والی ،کیا کھڑ کھڑانے والی ،تمہیں کیا معلوم کہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے"
وہ شخص پریشان ہو گیا کہ یہ کھڑ کھڑانے والی کیا چیز ہے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ الجھتا رہا پھر اس نے سوچاکیوں نہ کسی عربی سے پوچھا جائے کہ یہ کھڑ کھڑانے والی کا کیا مطلب ہے اس آدمی کا ایک دوست عرب کا بدو تھا جو کہ صحرا میں خیمہ لگا کر رہتا تھا اس نے سوچا میں اسی سے پوچھتا ہوں اس کھڑ کھڑانے والی کا مطلب ،چنانچہ وہ اس کے پاس صحرا میں گیا ابھی وہ اس کے خیمہ کے پاس بھی نہ پہنچا تھا کہ اس بدو نے اپنی بیوی کو آواز دی کہ "القارعة القارعة کہ دیکھو چولہے پہ کیا رکھا ہے جو اتنا جوش دے رہا ہے کہ اس کے کھولنے سے چولہے پہ رکھی ہوئی چیز کا ڈھکن کھڑ کھڑا رہا ہے وہ آدمی وہیں رک گیا اور اس کو اس سورت کی سمجھ آ گئ کہ اللہ پاک نے اس کھڑ کھڑانے والی سے مراد وہ دوزخ ہے جو کہ آگ سے ابل رہی ہے اور اللہ پاک نے اسے قیامت تک ڈھکا ہوا ہے اور اللہ انسانوں کو اس سورت کے زریعے سمجھارہا ہے کہ تمہیں کیا معلوم وہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے وہ ابلتی ہوئی آگ ہے تو اے انسانوں اس آگ سے بچ جاؤ
اللہ ہمیں کیسے اپنی نشانیاں کھول کھول کر سنا رہا ہے
اور ہم پھر بھی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اللہ ہمیں اس کھڑ کھڑانے والی سے محفوظ رکھے آمین